مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 2066

حضرت قرہ مزنی کی روایات۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ جَاءَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ صَغِيرٌ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ قَالَ شُعْبَةُ قُلْنَا لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ لَا وَلَكِنَّهُ كَانَ عَلَى عَهْدِهِ قَدْ حَلَبَ وَصَرَّ

ابوایاس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں میرے والد بچپن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں دعابخشش فرمائی اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرا شعبہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے پوچھا کہ کہ انہیں شرف صحبت بھی حاصل ہے انہوں نے فرمایا نہیں البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں وہ دودھ دوہ لیتے تھے اور جانور کا تھن باندھ لیتے تھے۔

یہ حدیث شیئر کریں