حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں ۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ سَيِّدُ قُرَيْشٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيِّدُ اللَّهُ قَالَ أَنْتَ أَفْضَلُهَا فِيهَا قَوْلًا وَأَعْظَمُهَا فِيهَا طَوْلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقُلْ أَحَدُكُمْ بِقَوْلِهِ وَلَا يَسْتَجِرُّهُ الشَّيْطَانُ
حضرت عبداللہ بن شخیر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ تو قریش کے سید آقا ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حقیقی آقا تو اللہ ہی ہے وہ کہنے لگا کہ آپ قریش میں بات کے اعتبار سے سب سے افضل اور جودو و سخا میں سب سے عظیم تر ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم وہ بات کہا کرو جس میں شیطان تمہیں گمراہ کرکے تم پر غالب نہ آجائے۔
