حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں ۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمْ الْمَقَابِرَ قَالَ فَقَالَ يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ كُلُّ صَدَقَةٍ لَمْ تُقْبَضْ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِيهِ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ يَقُولُ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ عَفَّانَ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ قَتَادَةَ
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ سورت تکاثر کی تلاوت فرما رہے تھے ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال جبکہ تیرامال تو صرف وہی ہے جو تو نے صدقہ کر کے آگے بھیج دیا یاپہن کر پرانا کر دیا یا کھا کرختم کردیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
