حضرت ابوزید طلحہ بن سہل کی حدیثیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ ثَابِتٍ كَانَ يَسْكُنُ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ فَغَيَّرَ عَلَيْهِ فَقَالَ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ قَالَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَرَأَ الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ قَدْ أَحْسَنْتَ قَالَ فَكَأَنَّ عُمَرَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عُمَرُ إِنَّ الْقُرْآنَ كُلَّهُ صَوَابٌ مَا لَمْ يُجْعَلْ عَذَابٌ مَغْفِرَةً أَوْ مَغْفِرَةٌ عَذَابًا وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ مَرَّةً أُخْرَى أَبُو ثَابِتٍ مِنْ كِتَابِهِ
حضرت ابوطلحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کوئی شخص حضرت عمر کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کررہا تھا اس دوران حضرت عمر نے اسے لقمہ دیا وہ آدمی کہنے لگا کہ میں نے اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی چنانچہ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے اور اس آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم پڑھ کر سنایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تحسین فرمائی حضرت عمر نے غالباً اس بات کو محسوس کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر سارا قرآن درست ہے جب تک انسان مغفرت کو عذاب یا عذاب کو مغفرت میں تبدیل نہ کردے۔
