مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 2219

حضرت عبداللہ بن ابی ربیعہ کی حدیث۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْهُ حِينَ غَزَا حُنَيْنًا ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَضَاهَا إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْوَفَاءُ وَالْحَمْدُ

حضرت عبداللہ بن ابی ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ حنین کے لئے جارہے تھے تو ان سے تیس چالیس ہزار درہم بطور قرض لئے تھے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ سے واپس آئے تو انہیں وہ قرض لوٹادیا اور فرمایا کہ اللہ تمہارے مال اور اہل خانہ میں تمہارے لئے برکتیں نازل فرمائے قرض کا بدلہ یہی ہے کہ اسے ادا کردیا جائے اور شکریہ بھی ادا کیا جائے۔

یہ حدیث شیئر کریں