مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 2310

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَأَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا قَالَ غَزَوْنَا فَزَارَةَ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَاءِ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَعَرَّسْنَا قَالَ فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ فَقَتَلْنَا عَلَى الْمَاءِ مَنْ قَتَلْنَا قَالَ سَلَمَةُ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنْ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ نَحْوَ الْجَبَلِ وَأَنَا أَعْدُو فِي آثَارِهِمْ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ قَالَ فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ عَلَى الْمَاءِ وَفِيهِمْ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ قَالَ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا قَالَ فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ثُمَّ بِتُّ فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ لِي يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَنِي حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ أَعْجَبَتْنِي مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا وَهِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أُسَارَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَفَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا، ہم بنو فزارہ سے جہاد کے لئے جا رہے تھے، جب ہم ایسی جگہ پر پہنچے جو پانی کے قریب تھی تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، فجر کی نماز پڑھ کر انہوں نے ہمیں دشمن پر حملہ کا حکم دیا اور ہم ان پر ٹوٹ پڑے، اور اس ندی کے قریب بے شمار لوگوں کو قتل کر دیا، اچانک میری نظر ایک تیز رفتار گروہ پر پڑی جو پہاڑ کی طرف چلا جا رہا تھا، اس میں عورتیں اور بچے تھے، میں ان کے پیچھے روانہ ہوگیا، لیکن پھر خطرہ ہوا کہ کہیں وہ مجھے سے پہلے ہی پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں اس لئے میں نے ان کی طرف ایک تیر پھینکا جو ان کے اوپر پہاڑ کے درمیان جاگرا۔پھر میں انہیں ہانکتا ہوا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، اور اسی ندی کے پاس پہنچ گیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت بھی تھی جس نے چمڑے کی پوستین پہن رکھی تھی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی انتہائی حسین و جمیل لڑکی تھی، اس کی وہ بیٹی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مجھے انعام کے طور پر بخش دی، میں نے مدینہ منورہ پہنچنے تک اس کا گھونگھٹ بھی کھول کر نہیں دیکھا، پھر رات ہوئی تب بھی میں نے اس کا گھونگھٹ نہیں ہٹایا، اگلے دن سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمانے لگے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کردو ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے، اگلے دن پھر سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی اور مجھے میرے باپ کی قسم دی، میں نے قسم کھا کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، لیکن یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اب میں وہ آپ کو دیتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لڑکی اہل مکہ کے پاس بھجوادی جن کے قبضے میں بہت سے مسلمان قیدی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فدیئے میں اس لڑکی کو پیش کر کے ان قیدیوں کو چھڑا لیا۔

یہ حدیث شیئر کریں