مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 2317

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فِي الْحُدَيْبِيَةِ ثُمَّ قَعَدْتُ مُتَنَحِّيًا فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ أَلَا تُبَايِعُ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَيْضًا قُلْتُ عَلَامَ بَايَعْتُمْ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حدیبیہ کے موقع پر دوسرے لوگوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کی اور ایک طرف کو ہو کر بیٹھ گیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ چھٹ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن اکوع! تم کیوں نہیں بیعت کر رہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں بیعت کر چکا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوبارہ سہی ، راوی نے پوچھا کہ اس دن آپ نے کس چیز پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی؟ انہوں نے فرمایا موت پر۔

یہ حدیث شیئر کریں