حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهْ ثُمَّ قَالَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهْ ثُمَّ قَالَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُ رَأْسَهُ تَحْتَ الْوَدِيِّ فَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهْ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری خاتون کے یہاں کھانے کی دعوت میں شریک تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر تشریف لائے ہم نے انہیں مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد حضرت عمر فاروق تشریف لائے ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اس وقت میں نے دیکھا کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم درختوں کے پودوں کے نیچے سے سر نکال کر دیکھنے لگے کہ اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ حضرت علی ہی آئے اور ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔
