مسند احمد ۔ جلد ہشتم ۔ حدیث 1207

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْحَشْرَجُ ابْنُ نُبَاتَةَ الْعَبْسِيُّ كُوفِيٌّ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ قَالَ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى وَهُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَالَ لِي مَنْ أَنْتَ فَقُلْتُ أَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ قَالَ فَمَا فَعَلَ وَالِدُكَ قَالَ قُلْتُ قَتَلَتْهُ الْأَزَارِقَةُ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كِلَابُ النَّارِ قَالَ قُلْتُ الْأَزَارِقَةُ وَحْدَهُمْ أَمْ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا قَالَ بَلَى الْخَوَارِجُ كُلُّهَا قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ السُّلْطَانَ يَظْلِمُ النَّاسَ وَيَفْعَلُ بِهِمْ قَالَ فَتَنَاوَلَ يَدِي فَغَمَزَهَا بِيَدِهِ غَمْزَةً شَدِيدَةً ثُمَّ قَالَ وَيْحَكَ يَا ابْنَ جُمْهَانَ عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ يَسْمَعُ مِنْكَ فَأْتِهِ فِي بَيْتِهِ فَأَخْبِرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فَإِنْ قَبِلَ مِنْكَ وَإِلَّا فَدَعْهُ فَإِنَّكَ لَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْهُ

سعید بن جمہان رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت تک ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے بتایا کہ میں سعید بن جمہان ہوں ، انہوں نے پوچھا کہ تمہارے والد صاحب کیسے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ انہیں تو" ازارقہ " نے قتل کردیاہے انہوں نے دو مرتبہ فرمایا ازارقہ پر لعنت الٰہی نازل ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ جہنم کے کتے ہیں ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس سے صرف " ازارقہ " فرقے کے لوگ مراد ہیں یاتمام خوارج ہیں ؟ انہوں نے فرمایا تمام خوارج " مراد ہیں پھر میں نے عرض کیا بعض اوقات بادشاہ بھی عوام کے ساتھ ظلم اور نا انصافی وغیرہ کرتا ہے انہوں نے میرا ہاتھ زور سے دبایا اور بہت تیز چٹکی کاٹی اور فرمایا اے ابن جمہان ! تم پر افسوس ہے سواد اعظم کی پیروی کرو سواد اعظم کی پیروی کرو اگر بادشاہ تمہاری بات سنتا ہے تو اس کے گھر میں اس کے پاس جاؤ اور اس کے سامنے وہ ذکر کرو جو تم جانتے ہو اگر وہ قبول کرلے توبہت اچھا ورنہ تم اس سے بڑے عالم نہیں ہو۔

یہ حدیث شیئر کریں