مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 1542

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ مَوْلًى لَهُمْ قَالَ رَجَعْنَا مِنْ جَنَازَةٍ فَمَرَرْنَا بِزَيْدِ بْنِ وَهْبٍ فَحَدَّثَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرِدْ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرِدْ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ

زید بن وہب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جنازے سے واپس آرہے تھے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذر ہوا وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے مؤذن نے جب ظہر کی اذان دینا چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ٹھنڈا کر کے اذان دینا دو تین مرتبہ اسی طرح ہوا حتٰی کہ ہمیں ٹیلوں کا سایہ نظر آنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کوٹھنڈا کر کے پڑھا کرو ۔

یہ حدیث شیئر کریں