مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 1646

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّامِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ صَلَّيْتَ قُلْتُ لَا قَالَ قُمْ فَصَلِّ قَالَ فَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ لِي يَا أَبَا ذَرٍّ اسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ لِلْإِنْسِ مِنْ شَيَاطِينَ قَالَ نَعَمْ يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ بَلَى بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الصَّلَاةُ قَالَ خَيْرٌ مَوْضُوعٌ فَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ وَمَنْ شَاءَ أَقَلَّ قَالَ قُلْتُ فَمَا الصِّيَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَرْضٌ مُجْزِئٌ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الصَّدَقَةُ قَالَ أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ قَالَ قُلْتُ أَيُّهَا أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ قُلْتُ فَأَيُّ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ أَعْظَمُ قَالَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ قُلْتُ فَأَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ قَالَ آدَمُ قُلْتُ أَوَنَبِيٌّ كَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ قُلْتُ فَكَمْ الْمُرْسَلُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے میں بھی مجلس میں شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا اے ابوذر رضی اللہ عنہ کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھو، چنانچہ میں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور آکر مجلس میں دوبارہ شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! انسانوں اور جنات میں سے شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو ، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا کیا حکم ہے؟ فرمایا بہترین موضوع ہے جو چاہے کم حاصل کرے اور جو چاہے زیادہ حاصل کر لے میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا ایک فرض ہے جسے ادا کیا جائے گا تو کافی ہو جاتا ہے اور اللہ کے یہاں اس کا اضافی ثواب ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا اس کا بدلہ دوگنا چوگنا ملتا ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل صدقہ کون سا ہے ؟ فرمایا کم مال والے کی محنت کا صدقہ یا کسی ضرورت مند کا راز، میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے پہلے نبی کون تھے ؟ فرمایا حضرت آدم علیہ السلام میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا وہ نبی تھے ؟ فرمایا ہاں ، بلکہ ایسے نبی جن سے باری تعالیٰ نے کلام فرمایا: میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم رسول کتنے آئے؟ فرمایا تین سو دس سے کچھ اوپر ایک عظیم گروہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سب سے عظیم آیت کون سی نازل ہوئی ؟ فرمایا آیت الکرسی ۔

یہ حدیث شیئر کریں