حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ وَهْبٍ الْحِمْصِيِّ عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّهُ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ الْقَدَرِ شَيْءٌ فَأُحِبُّ أَنْ تُحَدِّثَنِي بِحَدِيثٍ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَ عَنِّي مَا أَجِدُ قَالَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَذَّبَ أَهْلَ السَّمَوَاتِ وَأَهْلَ الْأَرْضِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ لَهُمْ خَيْرًا مِنْ أَعْمَالِهِمْ وَلَوْ كَانَ أُحُدٌ لَكَ ذَهَبًا فَأَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَمْ تُؤْمِنْ بِالْقَدَرِ وَتَعْلَمْ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ مَا تُقُبِّلَ مِنْكَ وَلَوْ مِتَّ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ دَخَلْتَ النَّارَ وَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَلْقَى أَخِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَتَسْأَلَهُ فَلَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ لَقِيَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابن دیلمی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے گیا اور عرض کیا کہ اے ابوالمنذر؟ میرے دل میں تقدیر کے متعلق کچھ وسوسے پیدا ہو رہے ہیں آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جس کی برکت سے میرے دل سے یہ وسوسے دور ہو جائیں انہوں نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب میں مبتلا کر دیں تو اللہ تعالیٰ پھر بھی ان پر ظلم کرنے والے نہیں ہوں گے اور اگر ان پر رحم کر دیں تو یہ رحمت ان کے اعمال سے بڑھ کر ہوگی اور اگر تم اللہ کے راستہ میں احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دوگے تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک تم تقدیر پر کامل ایمان نہ لے آؤ اور یہ یقین نہ کر لو کہ تمہیں جو چیز پیش آئی ہے وہ تم سے چوک نہیں سکتی تھی اور جو چیز تم سے چوک گئی ہے وہ تم پر آنہیں سکتی تھی ، اگر تمہاری موت اس کے علاوہ کسی اور عقیدے پر ہوئی تو تم جہنم میں داخل ہوگے۔
پھر میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی مجھے یہی جواب دیا۔
پھر میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی مجھے یہ جواب دیا۔
پھر میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی مجھے یہی جواب دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا۔
