مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 1871

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَنَا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ الْمَازِنِيُّ قَالَ سَأَلْتُ عَطَاءً عَنْ الدِّينَارِ بِالدِّينَارِ وَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ وَالدِّرْهَمِ بِالدِّرْهَمِ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحِلُّهُ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ بِمَا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الرِّبَا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ أَوْ النُّقْرَةِ

یحییٰ بن قیس کہتے کہ میں نے عطاء سے دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم کے تبالے کے متعلق پوچھا جبکہ ان کے درمیان کچھ اضافی چیز بھی ہو تو انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اسے حلال قرار دیتے ہیں اس پر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابن عباس وہ بات بیان کر رہے ہیں جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود نہیں سنی ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا یہ چیز میں نے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی ہے ، البتہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود کا تعلق تو ادھار یا تاخیر سے ہوتا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں