مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 1959

ہزال کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بنِ هَزَّالٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فِي حِجْرِ أَبِي فَأَصَابَ جَارِيَةً مِنْ الْحَيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ لَكَ وَإِنَّمَا يُرِيدُ بِذَلِكَ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَخْرَجٌ فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ ثُمَّ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ قَدْ قُلْتَهَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَبِمَنْ قَالَ بِفُلَانَةَ قَالَ هَلْ ضَاجَعْتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ بَاشَرْتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ جَامَعْتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ قَالَ فَأُخْرِجَ بِهِ إِلَى الْحَرَّةِ فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزَعَ فَخَرَجَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ وَقَدْ أَعْجَزَ أَصْحَابَهُ فَنَزَعَ لَهُ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ فَرَمَاهُ بِهِ فَقَتَلَهُ قَالَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ يَتُوبُ فَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ هِشَامٌ فَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي حِينَ رَآهُ وَاللَّهِ يَا هَزَّالُ لَوْ كُنْتَ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا مِمَّا صَنَعْتَ بِهِ

نعیم بن ہزال کہتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ میرے والد کے زیر سایہ پرورش تھے وہ محلے کی ایک باندی کے ساتھ ملوث ہوگئے میرے والد نے ان سے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ بتاؤ تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے بخشش کی دعاء کر دیں ، ان کا مقصد یہ تھا کہ شاید ان کے لئے کوئی راستہ نکل آئے چنانچہ وہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں اس لئے مجھ پر سزاجاری کیجئے جو کتاب اللہ کے مطابق ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا چار مرتبہ اسی طرح ہوا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے چار مرتبہ اس کا اقرار کیا ہے یہ بتاؤ کس کے ساتھ یہ گناہ کیا ہے؟ ماعز نے کہا فلاں عورت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم اس کے ساتھ لیٹے تھے ؟ ماعز نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس کے جسم کے ساتھ اپناجسم ملایا تھا ؟ ماعز نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اس کے ساتھ مجامعت کی تھی ؟ ماعزنے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے۔
چنانچہ لوگ اسے " حرہ " کی طرف لے گئے جب ماعز کو رجم کیا جانے لگا اور انہیں پتھر پڑے تو اس کی تکلیف محسوس کر کے وہ تیزی سے بھاگ کھڑے ہوئے لوگ انہیں پکڑنے سے عاجز آگئے تو اچانک عبداللہ بن انیس مل گئے انہوں نے اونٹ کی ایک ہڈی انہیں کھینچ کر دے ماری جس سے وہ جاں بحق ہوگئے ، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟ شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ اس کی توبہ کو قبول کر لیتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد سے فرمایا ہزال ! بخدا! اگر تم اسے اپنے کپڑوں میں چھپا لیتے تو یہ اس سے بہتر ہوتا جو تم نے اس کے ساتھ کیا۔

یہ حدیث شیئر کریں