مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2145

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْأَحْدَبِ قَالَ خَطَبَ مُعَاذٌ بِالشَّامِ فَذَكَرَ الطَّاعُونَ فَقَالَ إِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ اللَّهُمَّ أَدْخِلْ عَلَى آلِ مُعَاذٍ نَصِيبَهُمْ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ ثُمَّ نَزَلَ مِنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ فَدَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِينَ فَقَالَ مُعَاذٌ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ الصَّابِرِينَ

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے شام میں خطبہ کے دوران طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تمہارے رب کی رحمت انبیاء کی دعاء اور تم سے پہلے نیکوں کی وفات کا طریقہ رہا ہے اے اللہ ! آل معاذ کو بھی اس رحمت کا حصہ عطاء فرما پھر جب وہ منبر سے اترے اور گھر پہنچے اور اپنے صاحبزادے عبدالرحمن کو دیکھا تو (وہ طاعون کی لپیٹ میں آچکا تھا ) اس نے کہا کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے لہٰذا آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں " حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا انشاء اللہ تم مجھے صبر کرنے والوں میں سے پاؤ گے۔

یہ حدیث شیئر کریں