مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2212

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا الْإِثْمُ فَقَالَ إِذَا حَكَّ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ قَالَ فَمَا الْإِيمَانُ قَالَ إِذَا سَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ وَسَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں اپنی برائی سے غم اور نیکی سے خوشی ہو تو تم مؤمن ہو گناہ کیا ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو۔

یہ حدیث شیئر کریں