مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 237

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو قَزَعَةَ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ الْبَاهِلِيُّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَخَاهُ مَالِكًا قَالَ يَا مُعَاوِيَةُ إِنَّ مُحَمَّدًا أَخَذَ جِيرَانِي فَانْطَلِقْ إِلَيْهِ فَإِنَّهُ قَدْ عَرَفَكَ وَكَلَّمَكَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَقَالَ دَعْ لِي جِيرَانِي فَإِنَّهُمْ قَدْ كَانُوا أَسْلَمُوا فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَامَ مُتَمَعِّطًا فَقَالَ أَمْ وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَ إِنَّ النَّاسَ لَيَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَأْمُرُ بِالْأَمْرِ وَتَخْلُفُ إِلَى غَيْرِهِ وَجَعَلْتُ أَجُرُّهُ وَهُوَ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَقُولُ فَقَالُوا إِنَّكَ وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَ ذَلِكَ إِنَّ النَّاسَ لَيَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَتَأْمُرُ بِالْأَمْرِ وَتُخَالِفُ إِلَى غَيْرِهِ قَالَ فَقَالَ أَوَ قَدْ قَالُوهَا أَوْ قَائِلُهُمْ فَلَئِنْ فَعَلْتُ ذَاكَ وَمَا ذَاكَ إِلَّا عَلَيَّ وَمَا عَلَيْهِمْ مِنْ ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ أَرْسِلُوا لَهُ جِيرَانَهُ

حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے بھائی مالک نے ان سے کہا کہ معاویہ! محمد صلی اللہ علیہ السلام نے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا ہے، تم ان کے پاس جاؤ ، وہ تمہیں پہچانتے اور تم سے بات کرتے ہیں، میں اپنے بھائی کے ساتھ چلا گیا، اس نے نبی علیہ السلام سے عرض کیا کہ میرے پڑوسیوں کو چھوڑ دیجئے، وہ مسلمان ہو چکے ہیں، نبی علیہ السلام نے اس کی بات سے اعراض کیا، (میرا بھائی) اکھڑ پن کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور آہستہ سے کہا کہ بخدا! اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ بولتا جا رہا تھا اور میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا تم کیا کہہ رہے تھے؟ (وہ خاموش رہا) لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہا تھا اگر آپ ایسا کر لیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا لوگ ایسی بات کہہ سکتے ہیں، اگر میں نے ایسا کیا بھی تو اس کا اثر مجھ پر ہوگا، ان پر تو کچھ نہ ہوگا، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔

یہ حدیث شیئر کریں