مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2395

حضرت ابومسعودعقبہ بن عمروانصاری رضی اللہ عنہ کی مرویات

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكُ ابْنُ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بِهَذَا أُمِرْتُ فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ بِهِ يَا عُرْوَةُ أَوَأَنَّ جِبْرِيلَ هُوَ الَّذِي أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ فَقَالَ عُرْوَةُ كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تھے انہوں نے عصر کی نماز مؤخر کر دی تو عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے پاس آکر کہا کہ ایک مرتبہ کوفہ میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بھی نماز عصر میں تاخیر کر دی تھی تو حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا تھا یہ کیا مغیرہ ! کیا آپ یہ بات جانتے نہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس وقت نماز پڑھی اسی طرح پانچوں نماز کے وقت وہ آئے اور وقت مقرر کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ حدیث سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا عروہ ! اچھی طرح سوچ سمجھ کر کہو، کیا جبرائیل علیہ السلام نے نماز کا وقت متعین کیا تھا ؟ حضرت عروہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جی ہاں ! بشیر بن ابی مسعود نے مجھ سے اسی طرح یہ حدیث بیان کی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں