مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2475

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ لَمَّا نَزَلَ فِي الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ مَا نَزَلَ قَالُوا فَأَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ قَالَ عُمَرُ أَنَا أَعْلَمُ ذَلِكَ لَكُمْ قَالَ فَأَوْضَعَ عَلَى بَعِيرٍ فَأَدْرَكَهُ وَأَنَا فِي أَثَرِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ قَالَ لِيَتَّخِذْ أَحَدُكُمْ قَلْبًا شَاكِرًا وَلِسَانًا ذَاكِرًا وَزَوْجَةً تُعِينُهُ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سونے چاندی کے متعلق وہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو لوگ کہنے لگے کہ ہم کون سا مال اپنے پاس رکھا کریں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہیں پتہ کر کے بتاتا ہوں چنانچہ انہوں نے اپنا اونٹ تیزی سے دوڑایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جالیا میں بھی ان کے پیچھے تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم کون سا مال اپنے پاس رکھیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذکر کرنے والی زبان ، شکر گذار دل اور وہ مسلمان بیوی جو امور آخرت پر اس کی مدد کرنے والی ہو۔

یہ حدیث شیئر کریں