مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2502

حضرت رعیہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ قَالَ جَاءَ رِعْيَةُ السُّحَيْمِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أُغِيرَ عَلَى وَلَدِي وَمَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا الْمَالُ فَقَدْ اقْتُسِمَ وَأَمَّا الْوَلَدُ فَاذْهَبْ مَعَهُ يَا بِلَالُ فَإِنْ عَرَفَ وَلَدَهُ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ قَالَ فَذَهَبَ مَعَهُ فَأَرَاهُ إِيَّاهُ فَقَالَ تَعْرِفُهُ قَالَ نَعَمْ فَدَفَعَهُ فَذَهَبَ إِلَيْهِ قَالَ سُفْيَانُ يَرَوْنَ أَنَّهُ أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يُغَارَ عَلَيْهِ

حضرت رعیہ سحیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے بیٹے اور مال کو حملہ کر کے چھین لیا گیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا مال تو تقسیم ہو چکا البتہ بلال ! انہیں اپنے ساتھ ان کے بچے کے پاس لے جاؤ اگر ان کا بچہ انہیں شناخت کرے تو اسے ان کے حوالے کر دو، چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے اور ان کا بیٹا دکھا دیا اور اس سے پوچھا کہ تم انہیں پہچانتے ہو؟ اس نے اعتراف کیا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ انہیں اسے ان کے حوالے کر دیا۔
سفیان کہتے ہیں کہ علماء کا خیال ہے کہ رعیہ قبل از حملہ اسلام قبول کرچکے تھے۔
فائدہ ۔ مکمل وضاحت کے لئے حدیث پڑھیے۔

یہ حدیث شیئر کریں