مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2605

حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ قَالَ أَبِي أَخْبَرَهُ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْمَعْنَى قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فِي مَجْلِسٍ إِذْ مُرَّ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُسْتَرِيحُ قَالَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ قُلْنَا فَمَا الْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ قَالَ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَرَأْتُهُ عَلَى مَالِكٍ يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں سے ایک جنازہ گذرا تو فرمایا یہ شخص آرام پانے والا ہے یا دوسرے کو اس سے آرام مل گیا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آرام پانے والے کا کیا مطلب ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ مؤمن دنیاکی تکالیف اور پریشانیوں سے نجات حاصل کر کے اللہ کی رحمت میں آرام پاتا ہے ہم نے پوچھا کہ " دوسروں کو اس سے آرام مل گیا " کا کیا مطلب ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاجر آدمی سے لوگ، شہر، درخت اور درندے تک راحت حاصل کرتے ہیں ۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں