حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کی مرویات
و قَالَ أَبُو حَازِمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو ضَمْرَةَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَهَاتَيْنِ وَفَرَّقَ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ ثُمَّ قَالَ مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَمَثَلِ فَرَسَيْ رِهَانٍ ثُمَّ قَالَ مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَعَثَهُ قَوْمُهُ طَلِيعَةً فَلَمَّا خَشِيَ أَنْ يُسْبَقَ أَلَاحَ بِثَوْبِهِ أُتِيتُمْ أُتِيتُمْ ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا ذَلِكَ
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اور قیامت کی مثال ان دو انگلیوں کی طرح ہے یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان تھوڑا سافاصلہ رکھا۔
اور فرمایا کہ میری اور قیامت کی مثال دو ایک جیسے گھوڑوں کی سی ہے۔
پھر فرمایا کہ میری اور قیامت کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے اس کی قوم نے ہر اول کے طور پر بھیجا ہو جب اسے اندیشہ ہو کہ دشمن اس سے آگے بڑھ جائے گا تو وہ اپنے کپڑے ہلا ہلا کر لوگوں کو خبردار کرے کہ تم پر دشمن آپہنچا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ آدمی میں ہوں ۔
