مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2918

حضرت عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں ۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعِي آنِفًا قَالُوا نَعَمْ قَالَ إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنْ الْقِرَاءَةِ مَعَهُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ

حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کیا ابھی نماز میں تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرأت کی تھی ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہی تو میں کہوں کہ مجھ سے جھگڑا کیوں ہو رہا ہے ؟ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ نماز میں قرأت کرنے سے باز آگئے۔

یہ حدیث شیئر کریں