مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2993

حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ بُرَيْدَةَ يَقُولُ جَاءَ سَلْمَانُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ بِمَائِدَةٍ عَلَيْهَا رُطَبٌ فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ قَالَ صَدَقَةٌ عَلَيْكَ وَعَلَى أَصْحَابِكَ قَالَ ارْفَعْهَا فَإِنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ فَرَفَعَهَا فَجَاءَ مِنْ الْغَدِ بِمِثْلِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ يَحْمِلُهُ فَقَالَ مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ فَقَالَ هَدِيَّةٌ لَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ابْسُطُوا فَنَظَرَ إِلَى الْخَاتَمِ الَّذِي عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ وَكَانَ لِلْيَهُوَدِ فَاشْتَرَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا وَكَذَا دِرْهَمًا وَعَلَى أَنْ يَغْرِسَ نَخْلًا فَيَعْمَلَ سَلْمَانُ فِيهَا حَتَّى يَطْعَمَ قَالَ فَغَرَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ إِلَّا نَخْلَةً وَاحِدَةً غَرَسَهَا عُمَرُ فَحَمَلَتْ النَّخْلُ مِنْ عَامِهَا وَلَمْ تَحْمِلْ النَّخْلَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالَ عُمَرُ أَنَا غَرَسْتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ غَرَسَهَا فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِهَا

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تر کھجوروں کی ایک طشتری لے کر حاضر ہوئے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا سلمان ! یہ کیا ہے ؟ عرض کیا کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے لئے صدقہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جاؤ ہم صدقہ نہیں کھاتے وہ اسے اٹھا کر لے گئے اور اگلے دن اسی طرح کھجوریں لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھیں (وہی سوال جواب ہوئے اور وہ تیسرے دن پھر حاضر ہوئے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا سلمان ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یہ آپ کے لئے ہدیہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس میں شامل کر لیا۔
پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت " جو پشت مبارک پر تھی " دیکھی اور ایمان لے آئے چونکہ وہ ایک یہودی کے غلام تھے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنے دراہم اور اس شرط پر انہیں خرید لیا کہ مسلمان ایک باغ لگا کر اس میں محنت کریں گے یہاں تک کہ اس میں پھل آجائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باغ میں پودے اپنے دست مبارک سے لگائے سوائے ایک پودے کے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لگایا تھا اور اسی سال درخت پر پھل آگیا سوائے اسی ایک درخت کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس کا کیا ماجرا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اسے میں نے لگایا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اکھیڑ کر خود لگایا تو وہ بھی ایک ہی سال میں پھل دینے لگا۔
فائدہ ۔ اس کی مکمل تفصیل حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایات میں دیکھئے ۔

یہ حدیث شیئر کریں