مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2999

حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا زُبَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ الْيَامِيُّ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَهُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَفَدَاهُ بِالْأَبِ وَالْأُمِّ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ قَالَ إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الِاسْتِغْفَارِ لِأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ لِي فَدَمَعَتْ عَيْنَايَ رَحْمَةً لَهَا مِنْ النَّارِ وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا لِتُذَكِّرَكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ الْأَشْرِبَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک جگہ پہنچ کر پڑاؤ کیا اس وقت ہم لوگ ایک ہزار کے قریب شہسوار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہماری طرف رخ کر کے متوجہ ہوئے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے ہوئے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا بات ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے بخشش کی دعاء کرنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن مجھے اجازت نہیں ملی تو شفقت کی وجہ سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا ، قبرستان جانے سے لیکن اب چلے جایا کرو تاکہ تمہیں آخرت کی یاد آئے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب اسے کھاؤ اور جب تک چاہو رکھو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں میں پینے سے منع فرمایا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔

یہ حدیث شیئر کریں