مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 3086

متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ قَالَ وَالْعَرِيَّةُ النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ يَشْتَرِيهِمَا الرَّجُلُ بِخَرْصِهِمَا مِنْ التَّمْرِ فَيَضْمَنُهُمَا فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو کٹے ہوئے پھل کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا البتہ " عرایا " میں رخصت دی ہے اور''عرایا " کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کسی باغ میں ایک دو درخت خرید لے اور اس کے بدلے میں اندازے سے کٹی ہوئی کھجور دے دے اور وہ درخت اپنے درختوں میں شامل کرلے صرف اتنی مقدار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں