متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِيهَا بِالرُّومِ فَأَوْهَمَ فِيهَا فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي قَالَ شُعْبَةُ فَذَكَرَ الرُّقَعَ وَمَعْنَى قَوْلِهِ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ بِمُتَنَظِّفِينَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنَ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدَ بْنَ عِيَاضٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلٍ يُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ تَكْفِيهِمْ آلَتَهُمْ إِذَا حَضَرُوهُ وَتَحْمِلُهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا عَنْهُ
حضرت ابو روح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ اشتباہ ہوگیا نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ وہ لوگ ہیں جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کرو تو خوب اچھی طرح وضو کیا کرو ۔
ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا لوگ جب موجود ہوں تو ان کے پانی نکالنے کے برتن کی حفاظت کرو اور غیر موجود ہوں (بھلے چھوڑ کر چلے چائیں ) تو ان کے پاس وہ اٹھا کر پہنچا دو۔
