متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَفِيهَا مَا يَبْلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الدِّينُ
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں اور انہیں نے قمیضیں پہن رکھی ہیں لیکن کسی کی قمیض چھاتی تک اور کسی کی اس سے نیچے تک ہے جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گذرے تو انہوں نے جو قمیض پہن رکھی تھی وہ زمین پر گھس رہی تھی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم پھر آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین۔
