مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 341

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ حَدِيثًا فَلَا تَزِيدُنَّ عَلَيْهِ وَقَالَ أَرْبَعٌ مِنْ أَطْيَبِ الْكَلَامِ وَهُنَّ مِنْ الْقُرْآنِ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ قَالَ لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ أَفْلَحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا يَسَارًا

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میں تم سے کوئی حدیث بیان کیا کروں تو اس سے زیادہ کا مطالبہ نہ کیا کرو، اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر اور الحمدللہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کر لو، کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔
پھر نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع) مت رکھو۔

یہ حدیث شیئر کریں