مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 3425

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرُ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ عِيسَى مَوْلًى لِحُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا وَهِمْتُ وَلَا نَسِيتُ وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ مَوْلَايَ وَوَلِيُّ نِعْمَتِي حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَكَبَّرَ خَمْسًا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا نَسِيتُ وَلَا وَهِمْتُ وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا

یحییٰ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے شہر مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عیسیٰ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہیں پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں بھولا ہوں اور نہ ہی مجھے وہم ہوا ہے میں نے اسی طرح تکبیریں کہی ہیں جیسے میرے آقا اور ولی نعمت حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہی تھی۔

یہ حدیث شیئر کریں