مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 3497

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ كَانَ أَمِيرًا عَلَى الْجَيْشِ الَّذِي غَزَا فِيهِ أَبُو أَيُّوبَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُ أَبُو أَيُّوبَ إِذَا مِتُّ فَاقْرَءُوا عَلَى النَّاسِ مِنِّي السَّلَامَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ وَلْيَنْطَلِقُوا بِي فَلْيَبْعُدُوا بِي فِي أَرْضِ الرُّومِ مَا اسْتَطَاعُوا فَحَدَّثَ النَّاسُ لَمَّا مَاتَ أَبُو أَيُّوبَ فَاسْتَلْأَمَ النَّاسُ وَانْطَلَقُوا بِجِنَازَتِهِ

اہل مکہ میں سے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ یزید بن معاویہ اس لشکر کا امیر تھا جس میں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بھی جہاد کے لئے شریک تھے یزید مرض الموت میں ان کی عیادت کے لئے آیا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ جب میں مر جاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتا دینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ جب حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے تو یزید نے لوگوں کو یہ باتیں بتائیں لوگوں نے اسلحہ زیب تن کیا اور ان کا جنازہ لے کر چل پڑے ۔

یہ حدیث شیئر کریں