حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ حَدَّثَهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي بَيْتِنَا الْأَسْفَلِ وَكُنْتُ فِي الْغُرْفَةِ فَأُهْرِيقَ مَاءٌ فِي الْغُرْفَةِ فَقُمْتُ أَنَا وَأُمُّ أَيُّوبَ بِقَطِيفَةٍ لَنَا نَتْبَعُ الْمَاءَ شَفَقَةَ يَخْلُصُ الْمَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُشْفِقٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ نَكُونَ فَوْقَكَ انْتَقِلْ إِلَى الْغُرْفَةِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَتَاعِهِ فَنُقِلَ وَمَتَاعُهُ قَلِيلٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ تُرْسِلُ إِلَيَّ بِالطَّعَامِ فَأَنْظُرُ فَإِذَا رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِكَ وَضَعْتُ يَدِي فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ هَذَا الطَّعَامُ الَّذِي أَرْسَلْتَ بِهِ إِلَيَّ فَنَظَرْتُ فِيهِ فَلَمْ أَرَ فِيهِ أَثَرَ أَصَابِعِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ إِنَّ فِيهِ بَصَلًا فَكَرِهْتُ أَنْ آكُلَهُ مِنْ أَجْلِ الْمَلَكِ الَّذِي يَأْتِينِي وَأَمَّا أَنْتُمْ فَكُلُوهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قُلْتُ لِأَبِي إِنَّ رَجُلًا قَالَ مَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي الْمَسْجِدِ لَمْ يُجْزِهِ إِلَّا أَنْ يُصَلِّيَهَا فِي بَيْتِهِ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذِهِ مِنْ صَلَوَاتِ الْبُيُوتِ قَالَ مَنْ قَالَ هَذَا قُلْتُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ مَا أَحْسَنَ مَا قَالَ أَوْ قَالَ مَا أَحْسَنَ مَا نَقَلَ
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر کی نچلی منزل میں فروکش ہوئے اور میں بالا خانے میں رہتا تھا ایک دن میرے کمرے میں پانی گر گیا، تو میں اور ام ایوب ایک چادر لے کرپانی خشک کرنے لگے تاکہ وہ چھت سے ٹپک کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ گرنے لگے پھر میں ڈرتا ڈرتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات مناسب نہیں ہے کہ ہم آپ کے اوپر رہیں آپ اوپر منتقل ہوجائیے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر آپ کا سامان " جو یوں بھی بہت تھوڑا تھا " اوپر منتقل کر دیا گیا ۔
پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے پہلے جو کھانا بھجواتے تھے میں اسے دیکھتا تھا اور جہاں آپ کی انگلیوں کے نشانات محسوس ہوتے میں اپنا ہاتھ وہیں رکھتا تھا لیکن آج جو کھانا آپ نے مجھے بھجوایا ہے اس میں دیکھنے کے بعد بھی مجھے آپ کی انگلیوں کے نشانات نظر نہیں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بات صحیح ہے در اصل اس میں پیاز تھاجسے کھانا مجھے پسند نہیں ہے جس کی وجہ وہ فرشتہ ہے جو میرے پاس آتا ہے البتہ تم اسے کھاسکتے ہو۔
