مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 3746

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ تَذَاكَرْنَا أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلَهُ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فَلَمْ يَقُمْ أَحَدٌ مِنَّا فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَجَمَعَنَا فَقَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ السُّورَةَ يَعْنِي سُورَةَ الصَّفِّ كُلَّهَا

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مذاکرہ کر رہے تھے کہ تم میں سے کون آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کرے گا کہ اللہ کی نظروں میں سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی وجہ سے ہم میں سے کوئی کھڑا نہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد بھیج کر ایک ایک کر کے ہم سب کو اپنے پاس جمع کر لیا اور ہمارے سامنے سورت صف مکمل تلاوت فرمائی۔

یہ حدیث شیئر کریں