مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 3774

مسنگ

حضرت طلق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران قبیلہ عبدالقیس کے " صحار" نامی آدمی آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپنے علاقے میں پھلوں سے جو شراب بناتے ہیں اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا حتیٰ کہ انہوں نے تین مرتبہ یہی سوال دہرایا حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ نشہ آور چیزوں کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے ؟ تم خود بھی اسے نہ پینا اور اپنے کسی مسلمان بھائی کو بھی نہ پلانا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کہ جو آدمی بھی اس کے نشے سے لذت حاصل کرنے کے لئے اسے پیتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن اپنی پاکیزہ شراب نہ پلائے گا۔

یہ حدیث شیئر کریں