مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 3794

حضرت علقمہ بن رمثہ بلوی رضی اللہ عنہ کی حدیث

مسنگ

حضرت علقمہ بن رمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا پھر خود ایک دستہ کے ساتھ روانہ ہوئے ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے دوران سفر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی پھر ہوشیار ہو کر فرمایا عمرو پر اللہ کی رحمت نازل ہو یہ سن کر ہم لوگ عمرو نامی تمام افراد کو ذہن میں لانے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ اونگھ آئی پھر ہوشیار ہو کر فرمایا عمرو پر اللہ کی رحمت نازل ہو تین مرتبہ اسی طرح ہوا پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ عمرو کون ہے ؟ فرمایا عمرو بن عاص، ہم نے پوچھا کہ انہیں کیا ہوا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب بھی لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دیتا تھا وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ عمرو! یہ کہاں سے آیا؟ وہ جواب دیتے کہ اللہ کی طرف سے اور عمرو نے سچ کہا کیونکہ اللہ کے پاس خیر کثیر ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں