مسنگ
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے میرے آقا نے گوشت کے ٹکڑے بنانے کا حکم دیا اسی دوران ایک مسکین آیا تو میں نے اس میں سے کچھ کھانے کو اسے بھی دے دیا آقا کو معلوم ہوا تو اس نے مجھے مارا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کہ یہ بات بتائی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیوں مارا؟ اس نے کہا کہ اس نے میری اجازت کے بغیر میرا کھانے کسی کو اٹھا کر دے دیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا اجر تم دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا۔
