مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 4100

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ حِينَ مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ بُكَاءَ الْحَيِّ عَلَى الْمَيِّتِ عَذَابٌ لِلْمَيِّتِ فَأَتَيْتُ عَمْرَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَهُودِيَّةٍ إِنَّكُمْ لَتَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ وَقَرَأَتْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى

ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میت پر اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو تا ہے، میں عمرہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودیہ عورت کے متعلق فرمائی تھی کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب ہو رہا ہے، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ آیت تلاوت فرمائی"کوئی بوجھ اٹھا نے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا ئے گا"۔

یہ حدیث شیئر کریں