مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 607

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ يَتَعَاطَوْنَ سَيْفًا مَسْلُولًا فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا أَوَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُ عَنْ هَذَا ثُمَّ قَالَ إِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ سَيْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَأَرَادَ أَنْ يُنَاوِلَهُ أَخَاهُ فَلْيُغْمِدْهُ ثُمَّ يُنَاوِلْهُ إِيَّاهُ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کے پاس پہنچے وہ لوگ ننگی تلواریں ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایساکرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو کیا میں نے اس سے منع نہیں کیا تھا؟ پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تلوار سونتے تو دیکھ لے کہ اگر اپنے کسی بھائی کو پکڑانے کا ارادہ ہو تو اسے نیام میں ڈال کر اسے پکڑائے۔

یہ حدیث شیئر کریں