مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ افلاس اور مہلت دینے کا بیان ۔ حدیث 131

قرض کو ادا کرنے کی نیت رکھنے و الے کی اللہ تعالیٰ مدد کرتے ہیں

راوی:

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : " من أخذ أموال الناس يريد أداءها أدى الله عنه ومن أخذ يريد إتلافها أتلفه الله عليه " . رواه البخاري

حضرت ابوہریرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کا مال لے اور اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو (یعنی کسی ضرورت واحتیاج ہی کی بناء پر قرض لے اور قرض کی ادائیگی کا ارادہ بھی رکھتا ہو اور اس کو ادا کرنے کی کوشش بھی کرتا ہو) تو اللہ تعالیٰ اس سے وہ مال ادا کرا دیتا ہے (یعنی قرض کو ادا کرنے کی نیت رکھنے والے کی اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے بایں طور کہ یا تو دنیا میں قرض ادا کرنے کی استطاعت دے دیتا ہے یا آخرت میں حقدار کو راضی کر دیتا ہے) اور جو شخص لوگوں کا مال لے اور ضائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہو (یعنی احتیاج وضرورت کے بغیر کسی سے قرض لے اور پھر اس قرض کی ادائیگی کی نیت بھی نہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے مال کو ضائع کر دیتا ہے ( یعنی جو شخص کسی سے قرض لے اور اس قرض کو نہ ادا کرے اور نہ ادا کرنے کی نیت رکھے تو اللہ تعالیٰ نہ صرف یہ کہ ادائیگی قرض پر اس کی مدد نہیں کرتا اور اس کے رزق میں وسعت وفراخی عطاء نہیں کرتا بلکہ اس کا مال تلف وضائع بھی کر دیتا ہے کیونکہ وہ ایک مسلمان کا مال ضائع کرنے کی نیت رکھتا ہے ( بخاری)

یہ حدیث شیئر کریں