سنن ابوداؤد ۔ جلد سوم ۔ فیصلوں کا بیان ۔ حدیث 202

صلح کا بیان

راوی: احمد بن صالح , ابن وہب , یونس , ابن شہاب , عبداللہ بن کعب بن مالک

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَقَاضَی ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا کَانَ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّی سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَی کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ فَقَالَ يَا کَعْبُ فَقَالَ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَشَارَ لَهُ بِيَدِهِ أَنْ ضَعْ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِکَ قَالَ کَعْبٌ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ فَاقْضِهِ

احمد بن صالح، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت کعب بن مالک نے انہیں بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مسجد نبوی میں انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اپنے کسی قرض جو ان کے ذمہ تھا مطالبہ کیا، اس مطالبہ میں ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں (اختلاف کی وجہ سے) یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی سن لیں آپ اپنے گھر میں تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے حجرہ مبارک کا پردہ اٹھایا اور کعب بن مالک کو پکارا اور فرمایا اے کعب انہوں نے کہا بیشک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اپنے قرض میں سے آدھا کم کر دو۔ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے کہ میں نے بیشک کر دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (ابن ابی حدرد سے) کہ اٹھو اور قرضہ ادا کرو۔

یہ حدیث شیئر کریں