سنن نسائی ۔ جلد دوم ۔ جہاد سے متعلقہ احادیث ۔ حدیث 1015

جہاد نہ کرنے والے مجاہدین کے برابر نہیں ہو سکتے۔

راوی: محمد بن عبید , ابوبکر بن عیاش , ابواسحاق , براء

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ جَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَ أَعْمَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ فِيَّ وَأَنَا أَعْمَى قَالَ فَمَا بَرِحَ حَتَّى نَزَلَتْ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ

محمد بن عبید، ابوبکر بن عیاش، ابواسحاق، حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جس وقت یہ آیت کریمہ" لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ" آخر تک نازل ہوئی تو حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہوئے وہ ایک نابینا شخص تھے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ایک نابینا شخص ہوں میرے متعلق کیا حکم گرامی ہے؟ ابھی کچھ وقت نہیں گزرا تھا کہ آیت" غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ" نازل ہوئی (یعنی معذور لوگ اس حکم سے مستثنی ہیں۔)

It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “A man came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم Ai and asked him for permission to go for Jihad. He said: ‘Are your parents alive?’ He said: ‘Yes.’ He said: ‘Then strive for their sake.”
(Sahih)

یہ حدیث شیئر کریں