موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ کتاب رضاع کے بیان میں ۔ حدیث 1144

بڑے پن میں رضاعت کا بیان

راوی:

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَضَاعَةِ الْکَبِيرِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَکَانَ تَبَنَّی سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَالِمٌ مَوْلَی أَبِي حُذَيْفَةَ کَمَا تَبَنَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَأَنْکَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا وَهُوَ يَرَی أَنَّهُ ابْنُهُ أَنْکَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ وَهِيَ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَی قُرَيْشٍ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فِي کِتَابِهِ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ مَا أَنْزَلَ فَقَالَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَائَهُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيکُمْ رُدَّ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْ أُولَئِکَ إِلَی أَبِيهِ فَإِنْ لَمْ يُعْلَمْ أَبُوهُ رُدَّ إِلَی مَوْلَاهُ فَجَائَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ کُنَّا نَرَی سَالِمًا وَلَدًا وَکَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا فُضُلٌ وَلَيْسَ لَنَا إِلَّا بَيْتٌ وَاحِدٌ فَمَاذَا تَرَی فِي شَأْنِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَحْرُمُ بِلَبَنِهَا وَکَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا مِنْ الرَّضَاعَةِ فَأَخَذَتْ بِذَلِکَ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فِيمَنْ کَانَتْ تُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنْ الرِّجَالِ فَکَانَتْ تَأْمُرُ أُخْتَهَا أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ وَبَنَاتِ أَخِيهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنْ الرِّجَالِ وَأَبَی سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْکَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ وَقُلْنَ لَا وَاللَّهِ مَا نَرَی الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ إِلَّا رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَضَاعَةِ سَالِمٍ وَحْدَهُ لَا وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ عَلَيْنَا بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ فَعَلَی هَذَا کَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَضَاعَةِ الْکَبِيرِ

ابن شہاب سے سوال ہوا کہ بڑھ پن میں کوئی آدمی عورت کو دودھ پئے تو اس کا کیا حکم ہے انہوں نے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ خذیفہ بن عتبہ بن ریبعہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور جنگ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے انہوں نے بیٹا بنایا تھا سالم کو تو سالم مولیٰ کہتے تھے انہوں بی خذیفہ کے جیسے زید کو بیٹا کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ابوخذیفہ نے سالم کا نکاح اپنی بھتجی فاطمہ بنت ولد سے کر دیا تھا جو پہلے ہجرت کرنے والوں میں تھی اور تمام قریش کی ثیبہ عورتوں میں افضل تھی جب اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں اتارا زید بن حارثہ کے حق میں کہ ان کو کے باپو کا نام معلوم نہ ہوتا اپنے مالک کی طرف نسبت کئے جانے تو سہلہ بنت سہیل ابوحذیفہ کی جورو جو بنی عامر بن لوی کی اولاد میں سے تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو حضرت سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا بچہ سمجھتے تھے ہم ننگے کھلے ہوتے تھے وہ اندر چلا آتا تھا اب کیا کرنا چاہئیے دوسرا گھر بھی ہمارے پاس نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پانچ بار دودھ پلادے تو وہ تیرا محرم ہوجائے گا ۔ پھر حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی نے ایسا ہی کیا اور سالم کو اپنا رضائی بیٹا سمجھنے لگی حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسی حدیث پر عمل کرتیں تھی اور جس مرد کو چاہتیں کہ اپنے پاس آیا جایا کرے تو اپنی بہن ام کلثوم کو حکم کرتیں اور اپنی بھتیجیوں کو کہ اس شخص کو اپنا دودھ پلادیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بیبیاں اس کا انکار کرتی تھیں کہ بڑے پن میں کوئی دودھ پی کر ان کا محرم بن جائے اور ان کے پاس آیا جایا کرے اور وہ یہ کہتی تھیں کہ یہ خاص رخصت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قسم اللہ کی ایس رضاعت کی وجہ سے ہمارا کوئی محرم نہیں ہوسکتا۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that he was asked about the suckling of an older person. He said, ''Urwa ibn az-Zubayr informed me that Abu Hudhayfa ibn Utba ibn Rabia, one of the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, who was present at Badr, adopted Salim (who is called Salim, the mawla of Abu Hudhayfa) as the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, adopted Zayd ibn Haritha. He thought of him as his son, and Abu Hudhayfa married him to his brother's sister, Fatima bint al-Walid ibn Utba ibn Rabia, who was at that time among the first emigrants. She was one of the best unmarried women of the Quraysh. When Allah the Exalted sent down in His Book what He sent down about Zayd ibn Haritha, 'Call them after their true fathers. That is more equitable in the sight of Allah. If you do not know who their fathers were then they are your brothers in the deen and your mawali,' (Sura 33 ayat 5) people in this position were traced back to their fathers. When the father was not known, they were traced to their mawla.
"Sahla bint Suhayl who was the wife of Abu Hudhayfa, and one of the tribe of Amr ibn Luayy, came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, 'Messenger of Allah! We think of Salim as a son and he comes in to see me while I am uncovered. We only have one room, so what do you think about the situation?' The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'Give him five drinks of your milk and he will be mahram by it.' She then saw him as a foster son. A'isha umm al-muminin took that as a precedent for whatever men she wanted to be able to come to see her. She ordered her sister, Umm Kulthum bint Abi Bakr as-Siddiq and the daughters of her brother to give milk to whichever men she wanted to be able to come in to see her. The rest of the wives of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, refused to let anyone come in to them by such nursing. They said, 'No! By Allah! We think that what the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered Sahla bint Suhayl to do was only an indulgence concerning the nursing of Salim alone. No! By Allah! No one will come in upon us by such nursing!'
"This is what the wives of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, thought about the suckling of an older person."

یہ حدیث شیئر کریں