موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ کتاب بیع کے بیان میں ۔ حدیث 1228

بیع صرف کے بیان میں

راوی:

عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ قَالَ فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّی اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ حَتَّی يَأْتِيَنِي خَازِنِي مِنْ الْغَابَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَا تُفَارِقْهُ حَتَّی تَأْخُذَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ
قَالَ مَالِک إِذَا اصْطَرَفَ الرَّجُلُ دَرَاهِمَ بِدَنَانِيرَ ثُمَّ وَجَدَ فِيهَا دِرْهَمًا زَائِفًا فَأَرَادَ رَدَّهُ انْتَقَضَ صَرْفُ الدِّينَارِ وَرَدَّ إِلَيْهِ وَرِقَهُ وَأَخَذَ إِلَيْهِ دِينَارَهُ وَتَفْسِيرُ مَا کُرِهَ مِنْ ذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَإِنْ اسْتَنْظَرَکَ إِلَی أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلَا تُنْظِرْهُ وَهُوَ إِذَا رَدَّ عَلَيْهِ دِرْهَمًا مِنْ صَرْفٍ بَعْدَ أَنْ يُفَارِقَهُ کَانَ بِمَنْزِلَةِ الدَّيْنِ أَوْ الشَّيْئِ الْمُتَأَخِّرِ فَلِذَلِکَ کُرِهَ ذَلِکَ وَانْتَقَضَ الصَّرْفُ وَإِنَّمَا أَرَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ لَا يُبَاعَ الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ وَالطَّعَامُ کُلُّهُ عَاجِلًا بِآجِلٍ فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَکُونَ فِي شَيْئٍ مِنْ ذَلِکَ تَأْخِيرٌ وَلَا نَظِرَةٌ وَإِنْ کَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ أَوْ کَانَ مُخْتَلِفَةً أَصْنَافُهُ

مالک بن اوس نے کہا مجھے حاجت ہوئی سو دینار کے درہم لینے کی تو مجھے بلایا طلحہ بن عبیداللہ نے پھر ہم دونوں راضی ہوئے صرف کے اوپر اور انہوں نے دینار مجھ سے لے لئے اور ہاتھ سے لٹ پلٹ کرنے لگے اور کہا صبر کرو یہاں تک کہ میرا خزانچی غابہ آ جائے حضرت عمر نے یہ سن کر کہا نہیں قسم اللہ کی مت چھوڑنا طلحہ کو بغیر روپے لئے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کا بیچنا چاندی کے بدلے میں ربا ہے مگر جب نقدا نقد ہو اور گہیوں بدلے گیہوں کے بیچنا ربا ہے مگر نقدا نقد اور کھجور بدلے کھجور کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد اور جو بدلے جو کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد اور نمک بدلے نمک کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد ۔
کہا مالک نے اگر کسی شخص نے روپے اشرفیوں کے بدلے میں لئے پھر اس میں ایک روپیہ کھوٹا نکلا اب اس کو پھیرنا چاہے تو سب اشرفیاں اپنی پھیر لے اور سب روپے اس کے واپس دے دے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا بدلے میں چاندی کے ربا ہے مگر جب نقدا نقد ہو اور حضرت عمر نے فرمایا اگر تجھ سے اپنے گھر جانے کی مہلت مانگے تو مہلت نہ دے اگر ایک روپیہ اس کو پھیر دے گا اور اس سے جدا ہو جائے گا تو مثل دین کے یا میعاد کے ہو جائے گا اسی واسطے یہ مکروہ ہے خود اس بیع کو توڑ ڈالنا چاہیے کہ ایک طرف نقد ہو دوسرے طرف وعدہ خواہ ایک جنس یا کئی جنس ہوں ۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Malik ibn Aus ibn al-Hadathan an-Nasri that one time he asked to exchange 100 dinars. He said, "Talha ibn Ubaydullah called me over and we made a mutual agreement that he would make an exchange for me. He took the gold and turned it about in his hand, and then said, 'I can't do it until my treasurer brings the money to me from al-Ghaba.' Umar ibn al-Khattab was listening and Umar said, 'By Allah! Do not leave him until you have taken it from him!' Then he said, 'The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Gold for silver is usury except hand to hand. Wheat for wheat is usury except hand to hand. Dates for dates is usury except hand to hand. Barley for barley is usury except hand to hand." "'Malik said, "The commentary on why that is disapproved is that the owner of the good gold uses the excellence of his old gold coins as an excuse to throw in the unminted gold with it. Had it not been for the superiority of his (good) gold over the gold of the other party, the other party would not have counterpoised the unminted gold for his kufic gold, and the deal would have been refused.
"It is like a man wanting to buy three sa of ajwa dried dates for two sa and a mudd of kabis dates, and on being told that it was not good, then offering two sa of kabis and a sa of poor dates desiring to make the sale possible. That is not good because the owner of the ajwa should not give him a sa of ajwa for a sa of poor dates. He would only give him that because of the excellence of kabis dates.
"Or it is like a man asking some one to sell him three sa of white wheat for two and a half sa of Syrian wheat, and being told that it was not good except like for like, and so offering two sa of wheat and one sa of barley intending to make the sale possible between them. That is not good because no one would have given a sa of barley for a sa of white wheat had that sa been by itself. It was only given because of the excellence of Syrian wheat over the white wheat. This is not good. It is the same as the case of the unminted gold."

یہ حدیث شیئر کریں