مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ جن لوگوں کو سوال کرنا جائز کرنا جائز ہے اور جن کو جائز نہیں ہے ان کا بیان ۔ حدیث 345

مستغنی سائل کے لئے وعید

راوی:

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " من سأل الناس وله ما يغنيه جاء يوم القيامة ومسألته في وجهه خموش أو خدوش أو كدوح " . قيل يا رسول الله وما يغنيه ؟ قال : " خمسون درهما أو قيمتها من الذهب " . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص لوگوں سے ایسی چیز کی موجود گی میں سوال کرے جو اسے مستغنی بنا دینے والی ہو تو وہ قیامت کے دن اس حال میں پیش ہو گا کہ اس کے منہ پر اس کا سوال بصورت خموش یا کدوش یا کدوح ہو گا۔ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! مستغنی بنانے والی کیا چیز ہوتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پچاس درہم یا اس قیمت کا سونا۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی)

تشریح
خموش جمع ہے خمش کی ، خدوش جمع ہے خدش کی اور کدوح جمع ہے کدح کی۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ تمام الفاظ قریب المعنی ہیں بایں طور کہ ان سب کے معنی کا حاصل زخم ہے گویا حدیث میں لفظ او راوی کا شک ظاہر کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تینوں میں سے کوئی ایک لفظ ارشاد فرمایا ہے۔
لیکن دوسرے بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ تینوں الفاظ متبائن ہیں یعنی ان تینوں کے الگ الگ معنی ہیں خموش کے معنی ہیں لکڑی کے ذریعے کھال چھیلنا، خمش کے معنی ہیں ناخن کے ذریعے کھال چھیلنا اور کدح کے معنی ہیں دانتوں کے ذریعے کھال اتارنا، گویا اس طرح قیامت کے روز سائلین کے تفاوت احوال کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص کم سوال کرے گا اس کے منہ پر ہلکا زخم ہو گا، جو شخص بہت زیادہ سوال کرے گا اس کے منہ پر بہت گہرا زخم ہو گا جو شخص سوال کرنے میں درمیانہ درجہ اختیار کرے گا اس کے منہ پر زخم بھی درمیانی درجے کا ہو گا۔

یہ حدیث شیئر کریں