مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ جن لوگوں کو سوال کرنا جائز کرنا جائز ہے اور جن کو جائز نہیں ہے ان کا بیان ۔ حدیث 355

سوال نہ کرنے والے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشات

راوی:

وعن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " من يكفل لي أن لا يسأل الناس شيئا فأتكفل له بالجنة ؟ " فقال ثوبان : أنا فكان لا يسأل أحدا شيئا . رواه أبو داود والنسائي

حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے ساتھ اس بات کا عہد کرے کہ وہ لوگوں کے آگے دست سوال دراز نہیں کرے گا تو میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں (ثوبان کہتے ہیں کہ) میں کبھی بھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا چنانچہ ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے خواہ وہ کتنی ہی تنگیوں میں کیوں نہ مبتلا رہے ہو۔ ( ابوداؤد ، نسائی)

تشریح
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ میں اس شخص کے لئے اس بات کی ضمانت لوں گا کہ وہ بغیر کسی عذاب کے ابتداء ہی میں جنت میں داخل کیا جائے گا گویا اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ کسی کے اگے دست سوال دراز نہ کرنے والا ان شاء اللہ خاتمہ بالخیر کی سعادت سے نوازا جائے گا۔
لیکن اتنی بات ضرور سمجھ لیجئے کہ اس بارے میں وہ صورت مستثنی ہے جب کہ موت کا خوف ہو کیونکہ انتہائی شدید ضرورت ممنوع چیزوں کو بھی مباح کر دیتی ہے لہٰذا اگر کوئی شخص ایسی پوزیشن میں ہو کہ اگر کسی سے کچھ نہ مانگے تو جان کے لا لے پڑ جائیں تو اس کے لئے مانگنا اور اپنا جان کو بچاہی ضروری ہو گا بلکہ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص سخت بھوک میں مبتلا ہو اور وہ کسی سے کچھ مانگ کر نہ کھائے اور اسی حالت میں وہ مر جائے تو گنہگار مرے گا۔

یہ حدیث شیئر کریں