مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ جن لوگوں کو سوال کرنا جائز کرنا جائز ہے اور جن کو جائز نہیں ہے ان کا بیان ۔ حدیث 356

سوال نہ کرنے کا حکم

راوی:

وعن أبي ذر قال : دعاني رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يشترط علي : " أن لا تسأل الناس شيئا " قلت : نعم . قال : " ولا سوطك إن سقط منك حتى تنزل إليه فتأخذه " . رواه أحمد

حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور اس بات کا اقرار کرایا کہ کبھی بھی کسی سے کوئی چیز نہیں مانگو گے چنانچہ میں نے اس بات کا اقرار کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اگر تمہارا کوڑا بھی گر جائے تو کسی سے نہ مانگو یعنی کسی سے اٹھانے کے لئے بھی نہ کہو بلکہ تم خود سواری سے اتر کر اٹھا لو۔ (احمد)

تشریح
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری ارشاد ترک سوال کے بارے میں بطور مبالغہ ہے کیونکہ اگر کسی کا کوڑا گر جائے اور وہ اسے اٹھانے کے لئے کسی سے کہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے بلکہ حقیقت میں تو وہ اسی کی چیز ہے جسے وہ صرف اٹھا کر دینے کے لئے کہہ رہا ہے لیکن چونکہ اس میں بھی ایک طرح کا سوال ہوتا ہے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطور مبالغہ اس سے بھی منع فرمایا ۔

یہ حدیث شیئر کریں