مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان ۔ حدیث 549

غلاموں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید

راوی:

وعن أم سلمة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يقول في مرضه : " الصلاة وما ملكت أيمانكم " . رواه البيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت ام سلمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الموت میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ نماز پر مضبوطی سے قائم رہو اور جو لوگ تمہاری ملکیت میں ہیں یعنی لونڈی غلام ان کے حقوق ادا کرو ( بیہقی اور احمد وابوداؤد نے اسی طرح کی روایت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کی گئی ہے۔

تشریح :
نماز پر مضبوطی سے قائم رہو کا مطلب یہ ہے کہ نماز پر مداومت اختیار کرو کوئی نماز بلا عذر شرعی قضا نہ کرو اور نماز کے جو حقوق وآداب ہیں ان کو پورے طور پر ادا کرو۔
لونڈی غلام کا یہ حق ہے کہ ان کا مالک ان کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے، حسب حیثیت کپڑے پہنائے ناحق مارنے اور گالی گلوچ سے اجتناب کرے اور برا بھلا نہ کہے ۔ اسی طرح جانوروں کا حق ادا کرنے کا بھی حکم ہے کہ جس شخص کی ملکیت میں جانور ہوں ان کے چارہ پانی کا انتظام کرے اور ان کو ناحق مارنے پیٹنے سے پرہیز کرے چنانچہ علماء نے لکھا ہے کہ قیامت کے دن ذمی اور جانوروں کی خصومت مسلمانوں کی خصومت سے زیادہ شدید ہو گی۔

یہ حدیث شیئر کریں