مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان ۔ حدیث 560

باپ بیٹوں یا دو بھائیوں میں جدائی نہ ڈالو

راوی:

وعن أبي موسى قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم من فرق بين الوالد وولده وبين الأخ وبين أخيه . رواه ابن ماجه والدارقطني
(2/266)

3373 – [ 32 ] ( لم تتم دراسته )
وعن عبد الله بن مسعود قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أتي بالسبي أعطى أهل البيت جميعا كراهية أن يفرق بينهم . رواه ابن ماجه

اور حضرت ابوموسی کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو باپ اور اس کے بیٹے کے درمیان اور دو بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالے ( ابن ماجہ دارقطنی)

تشریح :
جدائی ڈالنے سے مراد ان دونوں میں سے کسی ایک کو بیچ ڈالنا یا ہبہ وغیرہ کر دینا ہے بشرطیکہ بیٹا یا ایک بھائی چھوٹا کمسن ہو اس کی تفصیل حضرت ابوایوب کی روایت کی تشریح میں پچھلے صفحات میں گزر چکی ہے ۔ یا جدائی ڈالنے کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ کسی باپ بیٹے یا دو بھائیوں کے درمیان لگائی بجھائی کے ذریعہ خفگی وناراضگی اور جدائی پیدا کر دی جائے۔
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ جب کسی غزوہ وغیرہ میں قیدی لائے جاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پورے گھر کو ہم میں سے کسی ایک شخص کو بطور لونڈی غلام عطا فرما دیتے تھے یعنی قیدیوں میں ایک گھر کے جتنے بھی افراد ہوتے ان سب کو آپ کسی ایک ہی شخص کے حوالے کر دیتے تھے) کیونکہ ان کے درمیان جدائی ڈالنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نا پسند تھا ( ابن ماجہ)

یہ حدیث شیئر کریں