مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان ۔ حدیث 562

لونڈی غلاموں کو اپنی اولاد اور اپنے بھائی کیطرح رکھو

راوی:

وعن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " لا يدخل الجنة سيئ الملكة " . قالوا : يا رسول الله أليس أخبرتنا أن هذه الأمة أكثر الأمم مملوكين ويتامى ؟ قال : " نعم فأكرموهم ككرامة أولادكم وأطعموهم مما تأكلون " . قالوا : فما تنفعنا الدنيا ؟ قال : " فرس ترتبطه تقاتل عليه في سبيل الله ومملوك يكفيك فإذا صلى فهو أخوك " . رواه ابن ماجه

اور حضرت ابوبکر صدیق راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے غلام لونڈی کے ساتھ برائی کرنیوالا کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا یہ سن کر صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت غلام لونڈی اور یتیموں کے اعتبار سے پچھلی تمام امتوں سے بڑھی ہوئی ہوگی (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں غلام لونڈی اور یتیم بہت ہوں گے تو کیا اتنی کثرت کی حالت میں سب کے ساتھ خوش خلقی کا برتاؤ کرنا ممکن ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میری امت میں لونڈی غلام بہت ہوں گے اور اتنی کثرت کی حالت میں سب ہی کے ساتھ خوش خلقی کا برتاؤ کرنا مشکل بھی بہت ہوگا لیکن اگر تم جنت میں داخل ہونا چاہتے ہو تو تم ان کے ساتھ دوسری طرح ایسے حسان کرو جو ان کے ساتھ تمہاری بد خلقی کا بدلہ ہو جائیں اور وہ احسان یہ ہے کہ تم ان کو اپنے کی طرح عزیز رکھ یعنی ان پر بایں طور نرمی و رحم کیا کرو کہ ان پر کسی ایسے کام کا بوجھ نہ ڈالو جو ان کے بس سے باہر ہو اور ان پر ظلم وزیادتی نہ کیا کرو) اور ان کو وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو ۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں دنیا میں نفع پہنچانے والی کون سی چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک گھوڑا جس کو تم اللہ کی راہ میں لڑنے کے لئے بانجھ رکھو اور ایک غلام جو تمہیں کفایت کرے (یعنی وہ تمہارے دنیاوی امور کو انجام دیتا رہے تا کہ تم فارغ رہ کر آخرت کے امور انجام دے سکو اور اگر تمہارا غلام نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے، لہذا اس کے ساتھ بھائی جیسا سلوک کرو ( ابن ماجہ)

تشریح :
یہ فرمایا گیا ہے کہ امت میں لونڈی غلام اور یتیم بہت زیادہ ہوں گے تو اس کا سبب یہ ہے کہ جب جہاد کثرت سے ہوگا تو کفار کے قیدی بھی کثرت سے ہاتھ آئیں گے اور جہاد کی کثرت ہی سے مسلمان شہید ہوں گے اور جب مسلمان شہید ہوں گے تو ان کے بچے یتیم ہو جائیں گے۔

یہ حدیث شیئر کریں