مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ جنت اور اہل جنت کے حالات کا بیان ۔ حدیث 196

جنت کی تعمیر کا ذکر

راوی:

عن أبي هريرة قال : قلت : يا رسول الله مم خلق الخلق ؟ قال : " من الماء " . قلنا : الجنة ما بناؤها ؟ قال : " لبنة من ذهب ولبنة من فضة وملاطها المسك الأذفر وحصباؤها اللؤلؤ والياقوت وتربتها الزعفران من يدخلها ينعم ولا يبأس ويخلد ولا يموت ولا يبلى ثيابهم ولا يفنى شبابهم " . رواه أحمد والترمذي والدارمي

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی سے ۔ " پھر ہم نے پوچھا کہ جنت کس چیز سے بنی ہے یعنی اس کی عمارت پتھر یا اینٹ کی ہے یا مٹی اور یا لکڑی وغیرہ کی ؟ فرمایا : " جنت کی ( تعمیر اینٹوں کی ہے اور اینٹیں بھی اس طرح کی ہیں کہ ) ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی ، اس کا گارا ( یا وہ مصالح جس سے اینٹیں جوڑی جاتی ہیں ، تیز خوشبودار خاص مشک کا ہے ، اس کی کنکریاں ( رنگ اور چمک دمک میں ) موتی اور یاقوت کی طرح ہیں اور اس کی مٹی زعفران ( کی طرح زرد اور خوشبو دار ہے ، جو شخص اس ( جنت میں ) داخل ہوگا ، عیش وعشرت میں رہے گا کبھی کوئی رنج وفکر نہیں دیکھے گا ، ہمیشہ زندہ رہے گا مرے گا نہیں ، نہ اس کا لباس پرانا اور بوسیدہ ہوگا اور نہ اس کی جوانی فنا ہوگی ۔ " ( احمد ، ترمذی ، دارمی )

تشریح :
شارحین نے حدیث کے پہلے جزء ( یعنی یہ سوال کہ مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب کہ " پانی سے " کے ضمن میں لکھا ہے کہ حکماء کا اس بارے میں اختلاف رائے ہے کہ اجسام میں سے جو چیز سب سے پہلا عالم وجود میں آئی ہے وہ کیا ہے ؟ اکثر کا کہنا یہ ہے کہ سب سے پہلے پانی کا جو ہر وجود میں آیا ، پھر اس جوہر کو کثیف منجمد کر کے زمین پیدا کی گئی اور اسی جوہر کو رقیق ولطیف کر کے آگ ہوا کو پیدا کیا گیا اور آگ کے دھویں سے آسمان وجود میں آیا ۔
یہ بات توریت میں آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک جوہر پیدا کیا اور پھر اس پر ہیبت وجلال کی نظر ڈالی تو اس کے اجزاء پگھل کر پانی بن گئے ، اس پانی سے ایک بخار بلند ہوا اور دھوئیں کی طرح اوپر کو جا کر پھیل گیا جس سے آسمان وجود میں آیا ، پھر پانی کے اوپر جھاگ ظاہر ہوا اور اس سے زمین پیدا ہوئی ، اس کے بعد پہاڑ پیدا کر کے ان کو زمین کا لنگر بنایا گیا ( یعنی پہلے زمین کو قرار نہیں تھا ہلتی ڈولتی تھی پھر پہاڑوں کے ذریعہ ان کو ساکن ومنجد کیا گیا ۔
بعض شارحین نے یہ لکھا ہے کہ حدیث میں ' 'پانی " سے مراد نطفہ (منی ) ہے اگر اس مراد کو صحیح مانا جائے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ " مخلوق " سے مراد " حیوانات " ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے وجعلنا من الماء کل شیء حی یعنی ہم نے ہر حیوان کو ( خواہ انسان ہو یا غیر انسان ) پانی سے پیدا کیا ہے ۔ اسی طرح ایک موقع پر یوں فرمایا گیا ہے و اللہ خلق کل دابۃ من ماء یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے والے جاندار کو پانی سے پیدا فرمایا ہے رہی یہ بات کہ نطفہ مادہ " تخلق " کو " پانی " سے کیون تعبیر کیا گیا ہے تو اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے ، پہلی بات یہ ہیکہ وہ مادہ تخلیق پانی ہی کی صورت میں ہوتا ہے دوسرے یہ کہ ہر مخلوق (حیوانات ) کی بہت بڑی ضرورت پانی ہی ہے اور ہر حیوان ( خواہ انسان ہو یا غیر انسان ) سب سے زیادہ فائدہ پانی ہی سے حاصل کرتا ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں